یہ تو آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ برصغیر پر جب انگریزوں کی حکومت تھی تو طرح کی ریاستیں انگریزوں کے ساتھ معاہدے کے تحت راجے مہاراجے بہال تھی اس وقت کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی ۔ کشمیر میں ان کے خلاف سیاسی بے چینی بہت بڑھ گئی تھی اور احتجاج ہو رہے تھے ۔ بدقسمتی سے ٢١ کشمیری اس دن شہید ہوئے ۔یہ واقع ١٩٣١ کا ہے۔
علامہ اقبال نے ١۴ اگست ١٩٣١ کو پورے ہندوستان میں اعلان کروایا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا جائے ۔
اس کے بعد جب پاکستان بنا تو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان یہ متانازعہ مسئلہ بن گیا اور آج بھی ہے ۔ اور اس وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کی تعلقات خراب ہی رہتے ہیں ۔اور پاک بھارت بارڈرز پر بھی آۓ دن کشیدگی رہتی ہے ۔جو کبھی کم تو کبھی بڑھ جاتی ہے ۔
ہندوستان کشمیریوں کی آواز کو ریاستی جبر و بربریت سے دبانے کی کوشش میں لگا یے ۔وہاں شخصی آزادی نہیں ،انسانی حقوق کی پامالی کی جاتی ہے ۔چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے ۔لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر شہید کیا جاتا ہے ،صحافتی آزادی نہیں ،انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے اور یہ ظلم و جبر کی رات آج بھی چل رہی ہے..
٢٨ فروری ١٩٧۵ کو ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا ۔ ۵ فروری کو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے سر یہ کارنامہ جاتاہے ۔ ۵فروری ١٩٩٠ کو قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا ۔ اس وقت یہ اپوزیشن میں تھے مگر ایک توانا آواز رکھتے تھے ۔بے نظیر بھٹو کی حکومت مرکز میں تھی اور نواز شریف کی پنجاب میں ۔ ان کو بھی قاضی حسین احمد کا ساتھ دینا پڑا ۔
اس طرح ۵ فروری ١٩٩٠ کو پہلی بار سرکار نے یوم یکجہتی کشمیر کا دن منانا شروع کیا ۔یہ تاریخ ہے کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔۔۔۔۔

Good
ReplyDeleteNice job
ReplyDeleteAllah inki ghaibi madad farmaye Ameen
ReplyDelete