میرے خیال میں یہ بالکل نہ ممکن سی بات ہے ۔پاکستان کا عدالتی نظام انتہائی کمزور ہے ۔یہاں امیر کے لئے قانون کچھ اور ہے اور غریب کے لیے کچھ اور ۔کبھی عدالتیں رات ١٢ بجے لگ جاتی ہیں فوری انصاف اور قانون پر عملدارامد کروانے کے لئے،تو کبھی لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں عدالتوں کے چکر لگا لگا کے یہاں تک کہ دنیائے فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور پھر کہیں جا کہ فیصلے آتے ہیں ۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جن کے مرنے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی ہو اور سزا کو بھی کئی سال گزر چکے ہوں اس کے بعد عدالت سے با عزت بری ہوۓ۔ کیا فائدہ ایسے انصاف کا ؟ کیا گزری ہو گی اس وقت اس انسان پر جس نے نا کردہ گناہ کی سزا بھگتی کیا گزری ہو گی اس خاندان پر ! سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے ۔
بھٹو سے لے کر نواز شریف ،آصف زرداری یا جو کچھ بھی آج عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے کیا یہ صحیح ہے؟آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا؟ کیا اس عدالتی نظام میں ہمیں کبھی بھی انصاف ملے گا ؟ ہر گز نہیں نا ممکن بڑے افسوس کے ساتھ۔
لیکن کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ اس نظام کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے یا اسے کون ٹھیک کر سکتا ہے ؟ اور اس میں پاکستانی عوام کا کیا کردار ہونا چاہئے ؟
عوام کو چاہئے وہ ایسے سیاستدان کو ووٹ دیں جو اس ووٹ کی اہمیت اور عزت کو سمجھتے ہوئے عوام کا خیال رکھیں ۔
اس عدالتی نظام کا قصور وار کون ہے ؟ یہی سیاست دان ہے جو حکومت ملنے کے بعد یہ بھول جاتے ہیں کہ انکا مقصد ،منشور کیا تھا انہیں چاہئے کہ یہ سب مل کر عدالتی نظام میں اصلاحات کریں تاکہ فوری انصاف کی فراہمی سب کو یکساں میسر ہو ۔
نور حسین
آپ کی کیا رائے یے اس بارے میں ؟

Bilkul sahi kaha
ReplyDeleteRight
ReplyDeleteSahi kaha
ReplyDelete