آئی ایم ایف اور عوام
حکومت پاکستان کی طرف سے آئندہ بجٹ کی تیاری اور آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کیلئے ترقیاتی اسکیموں پر پابندی، پنشن اسکیم میں تبدیلی، آئندہ بھرتیوں میں کمی، کنٹریکٹ پر سرکاری ملازمین کی بھرتی اور ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال کرنے کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پٹرولیم لیوی اور ادویات، گاڑیوں اور رئیل اسٹیٹ سمیت متعدد شعبوں میں مزید ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے۔ پنشن اصلاحات میں ایک اچھی تجویز جس کی طرف حکومت کی توجہ اپنے ایک گزشتہ کالم میں مبذول کروا چکا ہوں اس کے مطابق پنشن کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت ملنے کی صورت میں سرکاری ملازم جتنا عرصہ دوبارہ ملازمت کرتا ہے اس کی پنشن منجمد رہے گی تاہم اس شق کا اطلاق نچلے درجے کے ملازمین پر نہیں ہونا چاہیے۔ ادویات کی قیمتوں میں گزشتہ چند ماہ میں کافی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے مزید ٹیکس عائد کیے جانے کی صورت میں بہت سی ضروری ادویات عوام کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ ذیابیطس اور دوسرے امراض کی مستقل دوائیاں استعمال کرنے والے مریض اپنی محدود آمدنی میں مہنگی دوائیں افورڈ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایک طرف ادویات ساز ادارے خام مال کی کمیابی اور مہنگاہونے کی توجیہ پیش کر کے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر رہے ہیں دوسری طرف بوڑھے پنشنر اور غریب عوام اپنی دوائیوں کی مقدار کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ متعلقہ وزارت غریب عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ملک کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر جس کا حجم گزشتہ برسوں میں مینو فیکچرنگ اور انڈسٹریل گروتھ سے بھی تجاوز کر گیا تھا مجموعی معاشی حالات کی وجہ سے جمود کا شکار ہے جس کی وجہ سے چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی سخت مالی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے تاجر خودکشیاں کر رہے ہیں اور مزدور بے روزگار بیٹھے ہیں۔ بجلی اور گیس کی ہوشربا قیمتوں نے ہماری انڈسٹری کو دنیا کے دوسرے ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑا اور اندرون ملک عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے ان حالات میں بے شمار انڈسٹریل یونٹ بند ہو چکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ ملک کا ایک بڑا انڈسٹریل گروپ اپنے ہزاروں مزدوروں کو خسارے میں ہونے کے باوجود تنخواہ دے رہا ہے کیونکہ خدا ترس مالکان کو بخوبی علم ہے کہ صرف مزدور بیروزگار نہیں ہوں گے ان کے ساتھ ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے مگر وہ بھی کب تک اس بوجھ کو اٹھاپائیں گے۔
حکومت آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کے لیے اخراجات میں کمی کے جو اقدامات کر رہی ہے اس میں نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے تاہم دلچسپ امر ہے کہ تمام وفاقی و صوبائی حکومتوں کے چھوٹے بڑے افسران اور وزراءکے لیے کچھ عرصہ قبل قیمتی سرکاری گاڑیاں خریدی جا چکی ہیں جو پٹرول کی مد میں کروڑوں روپے ماہانہ حکومتی خزانے سے خرچ کر رہی ہیں اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ حکومتی خزانہ خالی ہے اور ہم مزید قرض لے کر اور غریب عوام کاخون نچوڑ کر حکومتی خرچے پورے کر رہے ہیں۔ زراعت کے شعبے میں حکومتی پالیسیوں اور اقدامات نے کسانوں کی ترقی و خوشحالی کا راستہ روک دیا ہے اور اب وہ قرض لے کر اگلی فصل کی بوائی میں لگ گئے ہیں حکومت اگر زراعت کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی چاہتی ہے تو ہر بڑے گائو ں گوٹھ میں سرکاری فنڈسے گودام اور بیج ، زرعی ادویات اور کھاد کی فراہمی کے لیے ڈپو قائم کرے ، بائیو گیس اور سولر پینلز کے لیے بلا سود قرضے فراہم کرے اس کے علاوہ ڈیری و فش فارمنگ کے لیے سہولیات فراہم کرے۔ آئی ٹی ایک ایسا شعبہ ہے جس کی ترقی سے ہمارا اور ہماری نوجوان نسل کا مستقبل وابستہ ہے۔ ناکافی سہولیات اور مناسب ٹریننگ کی سہولیات نہ ہونے کے باوجود ہمارا ملک اس سیکٹر میں قدم جما رہا ہے۔ حکو متی سطح پر بھی اس سیکٹر کی ترقی اور نوجوانوں کی ٹریننگ کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے گئے ہیں جبکہ آئی ٹی پارکس اور سینٹرز کی تعمیر اور جملہ سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں وافر فنڈز مہیا کر رہی ہیں۔ آئی ٹی سے منسلک مختلف شعبوں میں مہارت کے ساتھ ہماری ورک فورس کا انگریزی زبان پر عبور بہت ضروری ہے تاکہ ہم بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی پراڈکٹس اور سروسز فروخت کر سکیں، اس سلسلے میں حکومت کو لینگوئج کورسز کے لیے انسٹی ٹیوٹ اور اکیڈمیاں بنانے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں دوسرے شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے لیے آئی ٹی کورس لازمی قرار دینا چاہیے۔ اب تک کیے جانے والے فیصلوں سے نظر آتا ہے کہ حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں سنجیدہ ہے مگر کوشش کی جانی چاہیے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے اور حکومتی اخراجات و پروٹوکول میں حقیقی کمی کی جائے۔
پبپلشیر
نور
.jpg)