خود ساختہ صحافت اور فیک نیوز۔
کچھ عرصہ قبل ’’برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن‘‘ نے خود ساختہ صحافیوں کی بڑھتی ہوئی جعلسازی پر مبنی خبروں کے سد باب کیلئے ایک ایسا الیکٹرانک طریقہ وضع کیا جس کے استعمال سے یہ پتا لگایا جا سکتا ہے کہ کون سی خبر جھوٹی یا سچی ہے۔ ”بی بی سی کی نیوز لیب کا ایجاد کردہ یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے خود ساختہ صحافیوں اور ان کی غلط خبروں کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے۔ ’’عالمی میڈیا واچ‘‘ کے مطابق بھارت میں بھی جوں جوں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں ملک کی انتہا پسند حکومتی جماعت اور دیگر شدت پسند تنظیموں نے بھارتی جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لئے فیک نیوز اور فیک تصاویر کے ذریعہ پراپیگنڈا مہم تیز کر دی ہے۔ اس ضمن میں بھی بی بی سی نے اپنے مذکورہ پروگرام کے ذریعے پتا چلایا کہ حج کے دوران لی گئی ایک تصویر کو کنبھ میلے کی تصویر بنا کر شائع کر دیا گیا اور ساتھ یہ جملہ بھی لکھا گیا کہ ”قوم پرست حکومت چننے کا کتنا فائدہ ہوتا ہے، حالانکہ یہ تمام تر خبر اور دعویٰ جھوٹ پر مبنی تھا دراصل یہ تصویر اگست 2018میں سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی تھی اور جس جگہ کی یہ تصویر ہے اسے وادی منیٰ اور ٹینٹ سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دُنیا میں سماجی روابط کی ویب سائٹ میٹا (فیس بک) کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس ضمن میں سخت نوٹس لے رہے ہیں کہ عالمی حکومتوں اور خود ساختہ صحافیوں، ٹک ٹاکرز، وی لاگرز یا اس قسم کے دیگر عناصر کی طرف سے غلط معلومات پھیلانے اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی سکیورٹی میں اضافہ کر رہے ہیں، فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ نے حال ہی میں فیس بک پر جعلی خبروں کی اشاعت کو روکنے کے لئے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق جعلی خبروں پر دو نمبر مواد کا لیبل لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ مذکورہ پروگرام "the trusted news initiative" جس کی بنیاد ’’بی بی سی‘‘ نے رکھی ہے اس میں دُنیا کے کئی ایک ممالک کی نیوز آرگنائزیشنز شامل ہیں ان میں ’’اے پی‘‘ ’’اے ایف پی‘‘ ’’سی بی سی‘‘ ’’ریڈیو کینیڈا‘‘ ای بی یو، اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ انفرمیشن فیوچر لیب، ’’گوگل‘‘ یو ٹیوب، انڈین اخبار ’’دی ہندو‘‘ ’’دی نیشن میڈیا گروپ“ ’’میٹا‘‘ مائیکروسافٹ، تھامسن رائٹرز، ’’رائٹرز انسٹیٹیوٹ فار دی سٹڈی آف جرنلزم‘‘ ایکس (ٹویٹر) اخبار ’’دی واشنگٹن پوسٹ‘‘ انڈونیشیا کی نیوز ایجنسی ’’کمپاس‘‘ بھارتی اخبار ’’انڈین ایکسپریس‘‘ بھارتی ’’این ڈی ٹی وی‘‘ آسٹریلیا کا ’’اے بی سی“ ایس بی ایس اور جاپان کا ’’این ایچ کے‘‘ شامل ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ سال2023میں لندن اور دہلی میں کانفرنسز بھی ہوئی تھیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’سائنس‘‘ جریدے میں شائع شدہ ایک تحقیق میں سوشل میڈیا ویب سائٹس ٹوئیٹر اور فیس بک پر دنیا بھر میں پھیلنے والی جعلی خبروں کا جائزہ لیا گیا، پتا چلا کہ ’’جھوٹ دوڑتا ہے اور سچ اس کے پیچھے رینگتا ہے، یہ کہاوت سوشل میڈیا کی خبروں پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بالکل درست ثابت ہوئی، میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی میڈیا لیب کے محققین نے 2006سے 2017کے دوران سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر ) پر پوسٹ کی گئی ایک لاکھ چھبیس ہزار خبروں کا جائزہ لیا تو انہیں معلوم ہوا کہ درست خبروں کے مقابلہ میں جعلی خبروں کو ٹویٹر پر 70 فیصد زیادہ شیئر کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق جعلی خبریں درست خبروں کے مقابلہ میں 6فیصد زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں اگرچہ ان خبروں میں سکیورٹی، دہشت گردی اور سائنس سے متعلق خبریں بھی شامل ہوتی ہیں لیکن سب سے زیادہ خبریں سیاست کے حوالہ سے ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی فطرت ہے جو سنسنی خیزی کو پسند کرتی ہے۔ ٹرسٹ پراجیکٹ کی بانی سیلی لیمن کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ جعلی خبر زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور بسا اوقات یہ معاملات کا رخ موڑ بھی دیتی ہے اور خود ساختہ صحافی جعلی خبروں کے ذریعے لوگوں کو غلط معلومات دے کر ان کی توجہ ایک ایسی سمت میں منعکس کر دیتے ہیں جس کی سرے سے اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ لیمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتی کہ جعلی خبروں یا خود ساختہ صحافیوں کی نشاندہی کرنا ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کام ہے، اور نہ ہی ہمیں یہ کام فیس بک، ٹویٹر یا گوگل پر چھورنا چاہئے بلکہ یہ کام سکہ بند صحافیوں اور صحافتی اداروں کو خود کرنا ہوگا !! کم و بیش کوئی 24سال پہلے جونہی پاکستانی صحافت نے میڈیا کا لبادہ اوڑھا تو اس کے ساتھ ہی دہائیوں سے طے کردہ صحافت کے تارو پود تنکوں کی طرح بکھرنے لگے اور پھر صحافت نام کی یہ رضیہ غنڈوں میں ایسی پھنسی کہ صحافی کا مطلب اینکر اور خبر کا مطلب ٹاک شو سمجھا جانے لگا اور دی زمانہ تو حالت یوں بھی دگرگوں ہیں کہ ٹک ٹاکر بھی خود کو صحافی منوانے پر بضد ہیں۔ یہ رجحان پروان چڑھا ہے اور اب تو ہما شما اور دو نمبری کی ایک ایسی دوڑ لگی اور اداکاروں، ماڈل گرلز اور پھکر بازوں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تواتر کے ساتھ اس شعبۂ صحافت میں گھس چکے ہیں اور میڈیا کے مدارالمہام بھی کہلوانے لگے ہیں پھر انہی دو نمبر کے نانگا پربتوں کی بدولت گزرتے وقت کے ساتھ حرام و حلال کی تخصیص میں فاصلے بھی کم ہوتے رہے۔ لاقانونیت، رشوت، سفارش، اقربا پروری، چور بازاری اور دھوکہ دہی عام ہوئی تو چالاک لوگوں نے ناجائز ذرائع کے بل بوتے پر دونوں ہاتھوں سے دولت اکٹھی کی پھر پاکستان جیسے ذات پات اور اونچ نیچ کے اس نظام میں یہی ذاتیں ملک کے صحافتی ثمرات وافق پر چھا گئیں، شرفاء اور پروفیشنل صحافی اپنی شان بے نیازی کے حصار میں کہیں گم ہو گئے، سکہ بند صحافی کے پاس دھن دولت کی فراوانی اور ہاتھ پھیلانے کا حوصلہ نہیں تھا چنانچہ اس قسم کے صحافی پس منظر میں چلے گئے لہٰذا اب میدان صاف تھا ملک کے طول و عرض میں کرپشن و دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کے انبوہ پر بیٹھے طبقے نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے اور اپنے جرائم کی پردہ داری کے لئے پہلے تو میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے میڈیا مالکان کو اشتہارات دے کر اپنے چنگل میں جکڑنے کی کوشش کی پھر دوڑ کی کوڑی یہ لائے کہ کیوں نہ وہ خود میڈیا ہاؤسز کے مالکان بن جائیں لہٰذا موقع دیکھتے ہی یہ لوگ پاکستان کے میدان صحافت میں نوٹوں کی بوریاں لے کر اُمڈے چلے آئے چنانچہ آج اسی طرح کے چند لوگ اپنے اپنے میڈیا ہاؤسز بنا کر ملکی اداروں حتی کہ زمام اقتدار کو بھی اپنی جیب کی گھڑی سمجھے بیٹھے ہیں لہذا اب صحافت کی صورت گری یوں ہے کہ ابن الوقتوں، ضمیر فروشوں کے بھی ہاتھ میں میڈیا کی ڈگڈگی آچکی ہے اور اب تو یہ انٹر نیشنل، بھی ہو چکے ہیں وہ جسے چاہیں اپنی مرضی کے مطابق نچوائیں اور حکومتوں کو بلیک میل بھی کریں بہر کیف پاکستان کی صحافت کا یہ طرز عمل جاری و ساری ہے اور اصلی صحافی انگشت بدنداں خاموش رہ کر بے بسی سے اپنی روز افزوں لٹتی ہوئی عزت پر ماتم کناں ہیں!! پاکستان میں تو بات اب الیکٹرانک میڈیا سے بھی آگے نکل چکی ہے بلکہ مزید شتر بے مہار ہو چکی ہے جب سے سوشل میڈ یا عام ہوا ہے بعض نام نہاد میڈیا مالکان کی طرح خود ساختہ صحافیوں اور بلاگرز کی بھی ایک بڑی کھیپ فیس میٹا، ایکس اور ٹک ٹاک پر مصروف عمل ہے۔ بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ یہ قبیلہ ہر قسم کی اخلاقی قانونی و صحافتی معیار کی حدود و قیود سے آزاد ہے ان کا نہ تو کوئی ایڈیٹر ہے نہ مالک لہذا اس قسم کے فاتر العقل لوگ اپنی نا ہنجاری، احساس کمتری اور جہالت کا تمام تر فتور غیر حقیقی اور بے وجود تحاریر اور خبریں چھوڑ کر نکالتے ہیں۔ کوئی 25 سال پیچھے بھی چلے جائیں تو صحافت میں صحافتی وقار، خبروں کا معیار اور اسلوب موجود تھا۔ صحافت میں اخلاقی قدروں کا احساس اور معاشرتی جذبات کو بھی ملحوظ رکھا جاتا تھا کسی بھی اچھے صحافتی ادارے میں چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور رپورٹر موجود ہوتے تھے لہٰذ ا صحافتی مواد ان تمام افراد کی کڑی چھان بین کے بعد ہی اخبار کی اشاعت کے قابل سمجھا جاتا تھا اور یہ لوگ چھپنے والے ایک ایک لفظ کے ذمہ دار ہوتے تھے اس کے برعکس آج الیکٹرانک میڈیا میں چیک و بیلنس کا کوئی مربوط سسٹم ہی موجود نہیں ، ایڈیٹر تو ہے ہی نہیں اندھا دھند فقط لفاظی ہے جو جس قدر چرب زبان ہو گا اس کا اتنا ہی اونچا مقام ہوگا۔ ’’انٹرنیشنل‘‘ ہونے والے میڈیا میں بدقسمتی سے ایک نئی روش یہ بھی چل نکلی ہے کہ انہیں صحافی بالکل چاہئیں ہی نہیں بلکہ ایسے صحافتی شوقین چاہئیں جو شہر میں یہاں وہاں ہونے والی چھوٹی موٹی تقاریب کو کیمرہ بند کریں۔ اس قسم کے ٹی وی چینل کسی بھی ٹوٹ بٹوٹ کو اپنا لوگو پکڑا دیتے ہیں اور پھر یہ موقع پرست چند ہی دنوں یا ہفتوں میں سوشل میڈیا پر خود کو از خود سینئر صحافی ڈکلیئر کر کے عوام کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اپنی مرضی کے نذرانے وصول کرتے ہیں بلکہ انہوں نے تو دو قدم مزید آگے بڑھ کر یہ انتظام بھی کر رکھا ہے کہ خود سے زیادہ جہلا کا ایک جتھہ جمع کر کے اپنے آپ کو ان کا سردار ڈیکلئر کر رکھا ہے یقیناً یہ لوگ کاؤ بوائے، سیاستدانوں کے میراثی اور صحافت کےبلیک سپاٹ ہیں! فیک نیوز اور صحافت میں آچکی دو نمبری کی روک تھام کے لئے صحافتی اداروں کو اپنے طور پر مربوط سسٹم بنانا ہوگا کیونکہ کسی بھی ملک کی صحافت اگر درست سمت کام نہ کرے تو اس کے سنگین نقصانات ناگزیر ہوتے ہیں کیونکہ اگر صحافت زرد یا دو نمبر ہو تو اس کے شدید نقصانات پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں پاکستان کی صحافت میں غیر پیشہ وری کا بڑھتا ہوا رجحان اس شعبہ کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے اس صورتحال میں پیمرا سے زیادہ حقیقی صحافتی اداروں اور اصلی صحافتی تنظیموں کو میدان عمل میں نکلنا ہوگا اور ’’بی بی سی‘‘ یا دیگر مغربی ممالک کے صحافتی اداروں کی طرح کوئی سائنسی سسٹم ایجاد کر کے اپنی لٹتی ہوئی صحافتی عصمت کو بچانا ہوگا ورنہ لوٹنے والے تو گروہ در گروہ میدان میں ہر جگہ موجود ہی ہیں۔
